وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو، سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی کا اجلاس ہوا، جس میں حالیہ قیمتوں میں تبدیلی کے بعد پیٹرولیم کی سپلائی اور مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سپلائی کے تسلسل، مارکیٹ ڈسپلن اور سپلائی چین میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں پیٹرولیم کے اسٹاک، درآمدی منصوبے اور ریفائنریز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مجموعی سپلائی صورتحال مستحکم ہے، ڈیزل کے اسٹاک تقریباً 25 دن کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہیں، پیٹرول کی دستیابی موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، اور خام تیل کے اسٹاک تقریباً 12 دن کی ضرورت کے مطابق موجود ہیں، جن کی سپلائی آئندہ آنے والے کارگو اور درآمدات کے ذریعے یقینی بنائی جا رہی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آئندہ ہفتوں کی درآمدات کے انتظامات حکومتی اور تجارتی ذرائع سے وقت پر مکمل ہورہے ہیں، جبکہ ریفائنریز اپنی کارکردگی کی بلند سطح پر کام کر رہی ہیں تاکہ خام تیل کو مؤثر طریقے سے ریفائنڈ مصنوعات میں تبدیل کیا جاسکے۔ اجلاس میں توانائی کی دستیابی کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی، جو زرعی، فرٹیلائزر، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کی فعالیت کے لیے ناگزیر ہے۔
کمیٹی نے سپلائی چین میں ہولڈنگ، قیاسی رویہ اور کسی بھی قسم کی دستیابی میں رکاوٹ کے سدباب کے لیے مسلسل نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ مقامی سطح پر طلب کی نگرانی اور غیر مجاز اسٹوریج کو روکنے کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
اجلاس میں گیس کی سپلائی اور SNGPL و SSGC کے اسٹاک کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا، اور گھریلو صارفین اور پاور سیکٹر کے درمیان گیس کے مؤثر استعمال کے لیے متوازن، ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔
کمیٹی نے OGRA کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی اہمیت پر زور دیا، جو اسٹاک، فروخت اور سپلائی کی صورتحال کی حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ تاہم ملک بھر کے 12,000 سے زائد پیٹرول پمپس سے مکمل ڈیٹا رپورٹنگ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، جسے فعال بنانے پر زور دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے ڈیٹا کی بروقت انضمام اور درست معلومات کی فراہمی کی ہدایت دی، جبکہ OGRA اور PSO کو ہدایت کی گئی کہ وہ سپلائی چین میں ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت کو مزید مضبوط کریں۔
اس مقصد کے لیے اسلام آباد کے منتخب PSO پیٹرول پمپس پر پیٹرولیم ڈویژن، OGRA ،FIA اور PSO کی مشترکہ ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ اسٹاک کی شفافیت اور رپورٹنگ کو بہتر بنایا جاسکے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء علی پرویز ملک، ڈاکٹر مصدق ملک، رانا تنویر حسین، محمد جنید انور چوہدری اور سردار اویس احمد خان لغاری سمیت متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی نے مارکیٹ استحکام، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا اور عوام کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ترغیب دی۔