چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ایک خط لکھ کر امریکا-ایران کشیدگی کے تناظر میں برآمدی، مالیاتی اور توانائی پالیسیوں میں فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
زبیر موتی والا نے کہا کہ برآمدی شعبے کو ریلیف دینے کے لیے سیلز ٹیکس زیرو ریٹنگ فوری طور پر بحال کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریفنڈز میں تاخیر کی وجہ سے برآمد کنندگان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور فوری ریلیف کی ضرورت ہے۔
خط میں زبیر موتی والا نے کہا کہ کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز کو سی این ایف کے بجائے ای ایکس ڈبلیو ویلیو پر مقرر کیا جائے جبکہ کراچی کی صنعتوں کے لیے بجلی ریلیف کے 28 سے 33 ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں اور اس کے لیے شفاف نظام بھی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیس کے نرخ سروس آف کاسٹ بنیاد پر مقرر ہوں اور برآمدی صنعتوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی شپنگ لاگت اور انشورنس اخراجات کے پیش نظر فریٹ سبسڈی اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیمز فوری طور پر بحال کی جائیں۔
زبیر موتی والا نے تجویز دی کہ تمام زیر التوا ٹیکس ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور آئندہ کے لیے خودکار، وقت مقررہ پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ برآمدی شعبے کو موثر ریلیف مل سکے۔