آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کے قوانین پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکار پوری نے کہا ہے کہ ملک بھر کی جیولرز برادی نے ایف بی آر کی جانب سے نافذ کردہ حالیہ قوانین اور طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ گولڈ پر یکطرفہ پالیسیوں سے کاروبار میں شدیدی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ چھوٹے تاجروں کو بلاجواز نوٹسز اور جرمانوں کا سامنا ہے۔ غیر قانونی چیکنگ اور ہراساں کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
کیش ٹرانزیکشنز پر غیر ضروری پابندیاں کاروبار کے لیے نقصان دہ ہیں۔ 175 کی حد جیولرز کے لیے ناقابل عمل ہے۔ ٹیکس دینے کے مخالف نہیں لیکن موجودہ طریقہ کار غیر منصفانہ ہے۔ حکومت فوری طور پر جیولرز نمائندگان سے مشاورت کرے۔ قوانین کو زمینی حقائق کے مطابق آسان بنایا جائے۔
جیولرز برادری نے حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ کاروبار دوست پالیسیاںتشکیل دی جائیں تاکہ معیشت کو نقصان سے بچایا جاسکے اور تاجروں کو سہولت فراہم ہو۔
آخر میں جیولرز نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو وہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔