وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ "پاکستان کانفرنس 2026" کے دوران ایک اہم پینل ڈسکشن میں شرکت کی، جس کی نظامت رضا باقر نے کی جبکہ ماہرینِ معیشت عاطف میاں اور نوبیل انعام یافتہ ڈیرن ایسی موگلو بھی پینل کا حصہ تھے۔
وزیرِ خزانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے عالمی سپلائی شاک کے باوجود پاکستان نے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنایا اور سبسڈیز کو ٹارگٹڈ بنیادوں پر منتقل کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کی ہے اور مستقبل کی تمام مالی ذمہ داریاں بھی بروقت پوری کی جائیں گی۔
وزیرِ خزانہ نے کراچی پورٹ کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت میں اضافے، گوادر پورٹ کی فعالیت اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ریکارڈ اضافے کو مثبت قرار دیا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ترسیلاتِ زر مستقل حل نہیں بلکہ برآمدات اور سروسز سیکٹر کی ترقی ہی پائیدار استحکام کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اصل چیلنج اصلاحات کے نفاذ کا ہے، جس کے لیے ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس نیٹ میں توسیع پر کام جاری ہے۔ محمد اورنگزیب نے صنعتوں کے لیے مستقل سبسڈیز کے بجائے مسابقت اور ٹیرف اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا۔
توانائی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سولر پاور کی پیداوار 8 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جسے مزید بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بڑے قومی چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ان مسائل کا حل ضروری ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معیشت میں شفافیت اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے بہتری لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔