حکومت نے آئندہ بجٹ سے قبل رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسوں میں ممکنہ کمی پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت ایک کنال تک کے پلاٹ پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مشاورت کی جائے گی جبکہ آئی ایم ایف کا وفد جلد پاکستان کا دورہ بھی متوقع ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے مجموعی طور پر 197 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ پلاٹس کی فروخت پر ٹیکس وصولی میں 62 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 137 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ پلاٹ خریداری پر ٹیکس میں 16 فیصد کمی کے بعد وصولی 61 ارب روپے رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق جائیداد سے حاصل منافع پر ٹیکس وصولی انتہائی کم رہی جو صرف 1.7 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ 9 ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے مجموعی طور پر 420 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 ارب روپے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق نان کارپوریٹ ملازمین نے 187 ارب روپے، کارپوریٹ ملازمین نے 134 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ صوبائی ملازمین کی ادائیگی 59 ارب روپے اور وفاقی ملازمین کی ٹیکس ادائیگی 41 ارب روپے رہی۔
حکام کے مطابق آئندہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس نظام میں ممکنہ ریلیف پر حتمی فیصلہ آئی ایم ایف مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔