موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز کیلیے نئے لائسنسنگ فریم ورک میں کڑی سیکیورٹی شرائط شامل

image

موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز (MVNOs) کے لیے لائسنسنگ فریم ورک میں قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت سخت نئی شرائط نافذ کر دی گئی ہیں۔ ان شرائط کے مطابق لائسنس یافتہ اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ تمام سیکیورٹی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کریں۔

نئے قواعد کے تحت صارفین کا ڈیٹا اور کال ڈیٹیل ریکارڈز (CDRs) کسی بھی صورت بیرون ملک منتقل نہیں کیے جا سکیں گے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے کسی بھی حصے سے ڈیٹا باہر بھیجنے پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ موبائل اور فکسڈ لائن ٹریفک کو براہ راست بیرون ملک روٹ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی غیر مجاز علاقے میں نیٹ ورک آپریشن محدود یا بند کرسکے۔ اسی طرح بغیر پیشگی منظوری کے بیس اسٹیشن نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فریم ورک میں غیر ملکی یا غیر مجاز ریموٹ رسائی پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ نیٹ ورک میں منظور شدہ انکرپشن ٹیکنالوجی کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ای آئی آر (Equipment Identity Register) سسٹم کے نفاذ اور چوری شدہ ڈیوائسز کی نگرانی کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

ہر صارف کیلیے منفرد شناختی نظام اپنانا لازمی ہوگا، جبکہ قانونی نگرانی کیلیے جدید سیکیورٹی سسٹمز آپریٹرز کو اپنے خرچ پر نصب کرنا ہوں گے۔ کمرشل سروس کے آغاز سے قبل تمام سیکیورٹی سسٹمز کا مکمل طور پر فعال ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح بغیر مکمل تصدیق کے کوئی سم فعال نہیں کی جاسکے گی، اور تمام آپریٹرز کو پی ٹی اے کی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ حکام کی ہدایت پر ویب سائٹس اور آن لائن مواد بلاک کرنا بھی لائسنسنگ شرائط کا حصہ ہوگا۔

مزید یہ کہ صارفین کا مکمل ریکارڈ، پس منظر کی تفصیلات اور کال ڈیٹا محفوظ رکھنا لازمی ہوگا، جبکہ کال کرنے اور وصول کرنے والے تمام نمبروں کی تفصیلات بھی ریکارڈ میں شامل ہوں گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US