پاکستان میں کرپٹو اور ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اسٹیٹ بینک نے ورچوئل کرنسی اور ٹوکن کی ڈیلنگ پر عائد اپنی سابقہ پابندی ختم کردی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل 2018 کا بی پی ڈی سرکلر نمبر تین منسوخ کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ بی پی ڈی سرکلر نمبر 10 برائے 2026 جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے اعلامیے کے تحت بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ لائسنس یافتہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز (VASPs) کے اکاؤنٹس کھول سکیں گے بشرطیکہ یہ ادارے پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) سے منظور شدہ ہوں۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ورچوئل ایسٹ ایکٹ 2026 کے نفاذ کے بعد ریگولیٹری فریم ورک کو فعال کر دیا گیا ہے جس کے تحت کرپٹو سے متعلق سرگرمیوں کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لایا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ بیرون ملک موجود پاکستانیوں کے اربوں ڈالر کے کرپٹو اثاثوں کو بھی ملک میں لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک مستقبل میں اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے پر بھی کام کر رہا ہے جو مالیاتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوسکتی ہے۔