ایرانی کرنسی کی مانگ میں اضافہ! پاکستانیوں کیلئے خریداری میں کونسی احتیاط ضروری؟

image

پاکستان میں حالیہ دنوں کے دوران ایرانی کرنسی، یعنی ایرانی ریال کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے کرنسی مارکیٹ میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

شہری اب روایتی غیر ملکی کرنسیوں کے بجائے ایرانی ریال میں سرمایہ کاری کی جانب مائل دکھائی دیتے ہیں جس کی بنیادی وجہ مستقبل میں ممکنہ منافع کی توقعات اور سرحدی تجارت میں وسعت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چند ہفتے قبل تک ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت تقریباً ڈھائی ہزار پاکستانی روپے کے برابر تھی تاہم اب یہی رقم بڑھ کر دس ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس طرح ایرانی ریال کی قدر میں چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بڑھتی ہوئی طلب کی ایک بڑی وجہ وہ سرمایہ کار ہیں جو یہ امید رکھتے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر ایران سے متعلق پابندیوں میں نرمی آتی ہے یا سفارتی سطح پر پیش رفت ہوتی ہے تو ایرانی معیشت مستحکم ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد افراد اس وقت ایرانی ریال کو مستقبل کی سرمایہ کاری کے طور پر خرید رہے ہیں۔

دوسری جانب پاک ایران سرحدی تجارت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی لین دین میں ایرانی ریال کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

برآمد کنندگان ایران کو بھیجے جانے والے سامان کے بدلے ریال وصول کر رہے ہیں، جبکہ درآمد کنندگان ایران سے اشیاء خریدنے کے لیے اسی کرنسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور آنے والے برسوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

معاشی تجزیہ کار اس رجحان کو مکمل طور پر مستحکم بنیادوں پر قائم نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق ایرانی ریال کی موجودہ مانگ زیادہ تر قیاس آرائیوں، جنگی حالات اور غیر یقینی صورتِ حال کا نتیجہ ہے، جس میں اچانک اتار چڑھاؤ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہریوں کو اس کرنسی میں سرمایہ کاری کرتے وقت محتاط رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ غیر مستحکم حالات کے باعث ایرانی ریال کی قدر کسی بھی وقت کم ہو سکتی ہے، جبکہ غیر تربیت یافتہ سرمایہ کاروں کے لیے جعلی کرنسی کے خطرات بھی موجود ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خریداری سے قبل مستند ذرائع سے شرح تبادلہ کی تصدیق کی جائے اور صرف معتبر ڈیلرز سے لین دین کیا جائے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق 14 اپریل 2026 کو اوپن مارکیٹ میں ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 5 ہزار 680 ایرانی ریال مل رہے تھے، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں معمولی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے پیش نظر محتاط حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US