p>
وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چودھری نے کراچی چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بندرگاہوں کی استعداد کار میں اضافے اور عالمی مارکیٹ کو راغب کرنے کے لیے ٹرمینل چارجز میں 60 فیصد کٹوتی کردی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میری ٹائم کمیٹی نے سرخ فیتے کے کلچر کا خاتمہ کر کے ہفتوں کا کام گھنٹوں میں مکمل کرنے کی پالیسی اپنائی ہے، جس کے باعث اب گاڑیوں کی امپورٹ، اسٹوریج اور پارکنگ کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کے پی ٹی کی زمینوں کو واگزار کروانے کا سلسلہ جاری ہے اور اگر ادارے تعاون کریں تو ان زمینوں کی بدولت ملک کے تمام قرضے اتارے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اب کے پی ٹی کی زمینیں مفت یا برائے نام کرایوں پر نہیں دی جائیں گی بلکہ بزنس کمیونٹی کو وہاں صنعتیں لگانے اور شراکت داری کی دعوت دی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان سالانہ 5 ارب ڈالر فریٹ کی مد میں ادا کرتا ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ پی این ایس سی نے تیل و گیس کی ترسیل کے لیے رعایتیں فراہم کر کے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پورٹ قاسم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایسٹرن زون کی ڈیولپمنٹ کے لیے 35 ارب روپے کا بجٹ منظور ہوچکا ہے، جبکہ 400 ایکڑ پر اسمال انڈسٹریل زون قائم کیا جا رہا ہے جس میں سے 100 ایکڑ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مختص ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورٹ قاسم پر پلاٹ صرف انڈسٹری لگانے کے لیے دیے جائیں گے اور فیکٹری کے قیام سے قبل ان کی فروخت ممکن نہیں ہوگی۔
اس موقع پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے دوران پاکستان کے بحری شعبے کی کارکردگی نے ملک کی عسکری اور مصالحتی برتری ثابت کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 50 سالہ ٹریننگ کا دور مکمل ہوچکا ہے اور اب معاشی برتری کا آغاز ہو گیا ہے۔ کراچی پورٹ نے 30 ایڈہاک بحری جہازوں اور فیڈر سروس کا کامیاب آغاز کیا ہے، جبکہ بنکرنگ کی صنعت میں ترقی سے آئندہ دو برسوں میں اربوں روپے کا کاروبار متوقع ہے جس سے ریفائنری سیکٹر کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کے پی ٹی اب ٹرانس شپمنٹ اور ڈراپ شپنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مزید برآں پاکستان کی فشریز برآمدات کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
پاکستان کی 16 فشری کمپنیز کو روس کی ریگولیٹری اتھارٹی نے اجازت نامہ جاری کردیا ہے۔ وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چودھری نے کہا کہ ہم نے ڈیپ سی فشنگ کیلیے 32 لائسنس جاری کیے ہیں۔