فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کراچی ہیڈ آفس میں بجلی بحران اور معاشی صورتحال پر عہدیداران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مختلف اہم امور پر اظہار خیال کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران کہا گیا کہ ملک سے سرمایہ باہر جانے کی باتیں کی جا رہی ہیں تاہم کاروباری طبقے کے مطابق سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں منافع موجود ہو۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا کہ ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ بیرون ملک گیا سرمایہ دوبارہ پاکستان واپس آ سکے۔
عہدیداران نے کہا کہ اگر کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو سرمایہ ملک میں ہی رہے گا۔ اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ منی چینجرز کے بجائے غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور زرمبادلہ کا تمام نظام بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے باعث ایمنسٹی اسکیم نہیں دے سکتی تاہم حکومت کو سرمایہ واپس لانے کے لیے واضح طریقہ کار فراہم کرنا ہوگا۔
بزنس کمیونٹی کے مطابق بجلی کا بحران انڈسٹری کو بری طرح متاثر کر رہا ہے جبکہ ملک میں سستی توانائی موجود ہونے کے باوجود اس کا مؤثر استعمال نہیں کیا جا رہا۔ اس سے صنعتی پیداوار میں کمی اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
عہدیداران نے کہا کہ پاکستان میں 41 ہزار میگاواٹ تک بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے تاہم صنعتی شعبہ اس کا بہت کم حصہ استعمال کر رہا ہے۔ صنعتوں کی بندش سے بجلی کی کھپت بھی کم ہو رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں معاشی اہداف، برآمدات میں کمی اور توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال میں رکاوٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ آئندہ کے لیے معاشی بہتری کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔