کراچی چیمبر آف کامرس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کی معاونت کو کلیدی اہمیت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کی شہ رگ ہے اور ان کے دورہ کراچی کا مقصد معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری 2024 سے اب تک حکومت نے معاشی استحکام کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جن میں افراط زر میں کمی اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری شامل ہے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے کیا جس سے معاشی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ ماضی میں جی ڈی پی نمو کے باوجود زرمبادلہ ذخائر میں کمی دیکھنے میں آتی رہی۔
انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے سرمایہ پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے اور حکومت زرمبادلہ کے اضافے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
صحافیوں کے سوالات پر وزیر مملکت نے بتایا کہ سعودی عرب کے دو ارب ڈالر ڈپازٹس پر وہ تفصیل میں نہیں جائیں گے تاہم سالانہ رول اوور کو تین سال تک بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داری پوری کرے گا اور زرمبادلہ ذخائر مستحکم ہیں۔
یورو بانڈز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان چار سال بعد دوبارہ بانڈ مارکیٹ میں واپس آیا ہے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی صورتحال سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور آئندہ معاشی پالیسیوں کا محور پائیدار ترقی ہوگا۔