کراچی میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تاجر برادری کے نمائندگان سے اہم ملاقات کی، جس میں آئندہ وفاقی بجٹ اور ٹیکس نظام میں بہتری پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ایف بی آر کے مرکزی دفتر میں ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام کو سادہ، شفاف اور تاجر دوست بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں پیچیدگیاں ختم ہوں اور ٹیکس دہندگان کو کنسلٹنٹ کی ضرورت نہ پڑے، جبکہ سادہ اردو فارم کے ذریعے ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جائے گا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت براہِ راست ٹیکسوں کے دائرہ کار کو بڑھانے اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2030 تک کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کے خاتمے کا پانچ سالہ منصوبہ جاری ہے، جس سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔
انہوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے 12 ارب ڈالر کی ترسیلات کا آنا عوام کے اعتماد کا ثبوت ہے، اور تاجروں کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
وزیر مملکت نے خواتین تاجروں کی سہولت کے لیے ایف بی آر میں "ویمن فیسیلیٹیشن ڈیسک" قائم کرنے اور تاجروں کے مسائل کے فوری حل کے لیے ماہانہ ’ایف بی آر کچہری‘ کے انعقاد کی ہدایت بھی دی۔
ملاقات میں شریک تاجر رہنماؤں نے بجٹ سازی کے عمل میں شمولیت اور براہِ راست مشاورت کے اقدام کو سراہتے ہوئے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آخر میں وزیر مملکت نے تاجروں کو اپنی تجاویز تحریری طور پر پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری کی ترقی ہی پاکستان کی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔