فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک بڑے اسکینڈل کی تحقیقات شروع کردی ہیں، جس میں مبینہ طور پر تحویل میں لی گئی چاندی کو راستے میں سیسے (lead) سے تبدیل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان مِنت لاہور منتقل کی جانے والی کھیپ کا معائنہ کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 400 کلوگرام چاندی کو مبینہ طور پر سیسے کے ڈنڈوں سے تبدیل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 698 کلوگرام ضبط شدہ چاندی 5 اپریل کو کوئٹہ سے لاہور منتقل کی گئی تھی۔ یہ سامان کسٹمز ہاؤس کوئٹہ سے مختلف گاڑیوں کے ذریعے ایئرپورٹ تک پہنچایا گیا تھا۔
تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سنگین بدعنوانی میں اسمگلرز اور بعض کسٹمز اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہو سکتی ہے۔ معاملے کی نشاندہی کے بعد متعدد متعلقہ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دینے کی تجویز دی ہے جس میں انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور کسٹمز حکام کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے، جس میں اس واقعے کو منظم جرائم کا حصہ قرار دیتے ہوئے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔