وزیر مملکت برائے بلاک چین اور کرپٹو بلال بن ثاقب نے اعلان کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرپٹو بینکنگ پر گزشتہ 8 سال سے عائد پابندی ختم کردی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اب پاکستانی بینک لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیوں کے لیے اکاؤنٹس کھول سکیں گے، جس کے بعد ان فرمز کا بینکنگ سیکٹر کے ساتھ باقاعدہ تعلق قائم ہوجائے گا۔
تاہم انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بینکوں کو خود کرپٹو کاروبار میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، اور نہ ہی بینک اپنے یا اپنے صارفین کی رقم سے کرپٹو کرنسی خریدنے یا اسے محفوظ رکھنے کے مجاز ہوں گے۔
یہ تبدیلی کرپٹو کمپنیوں کو قانونی بینکنگ چینلز تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔