15 خاندانوں کا کفیل پاکستانی ساؤتھ افریقا میں قتل، 3 دن میں 3 پاکستانی جان سے گئے

image

جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ کے علاقے امارینٹیا میں ایک معمولی ٹریفک حادثہ اس وقت ایک ہولناک واقعے میں تبدیل ہوگیا جب دو ڈرائیوروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی شروع ہوئی۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ بیری ہرٹزوگ ایونیو پر پیش آیا جہاں معمولی ٹکر کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق جھگڑے کے دوران ایک ڈرائیور نے اسلحہ نکال لیا جس سے فائرنگ کے نتیجے میں دوسرا شخص موقع پر جاں بحق ہو گیا، پولیس نے واقعے کے بعد 58 سالہ ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور اس کے خلاف قتل اور اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت فیصل الرحمٰن کے طور پر ہوئی ہے، جو اصل میں پاکستانی شہری تھے۔ اہل خانہ کے مطابق فیصل الرحمٰن 1977 میں پیدا ہوئے اور وہ پیشے کے لحاظ سے کار ڈیلر تھے۔ وہ پریٹوریا میں گاڑیوں کی خرید و فروخت اور مرمت کا کاروبار کرتے تھے اور اسی شعبے سے ان کا روزگار وابستہ تھا۔ ان کے پاس اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا اجازت نامہ موجود تھا، تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی اسلحہ استعمال کرنے کی مشق یا تفریحی طور پر فائرنگ نہیں کی۔ ان کے مطابق فیصل الرحمٰن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔

اہل خانہ نے بتایا کہ فیصل الرحمٰن نہ صرف اپنے گھر کے واحد کفیل تھے بلکہ پاکستان میں بھی کئی خاندانوں کی مالی مدد کرتے تھے۔ وہ ہر ماہ مختلف گھرانوں کو رقم بھیجتے تھے اور یتیم بچوں کی کفالت اور خیراتی کاموں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ان کی موت کے بعد نہ صرف ان کا اپنا گھر متاثر ہوا بلکہ پاکستان میں ان پر انحصار کرنے والے متعدد خاندانوں کی آمدن بھی بند ہوگئی ہے۔

اس واقعے کے بعد سب سے کٹھن مرحلہ ان کی اہلیہ تحسین زہرا فیصل کو حقیقت بتانا تھا۔ وہ بھی اسی فائرنگ کے دوران زخمی ہوئیں اور اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کے ہاتھ اور کندھے کے زخموں کا علاج جاری ہے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں شوہر کی موت کی خبر 24 گھنٹے سے زیادہ وقت بعد دی گئی کیونکہ خاندان خود شدید صدمے میں تھا اور ابتدائی طور پر یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل تھا کہ میت کو جنوبی افریقا میں دفن کیا جائے یا پاکستان واپس بھیجا جائے۔

بعد میں اہل خانہ نے تحسین زہرا کو حقیقت سے آگاہ کیا تاکہ وہ اپنے شوہر کی میت کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔ رشتہ داروں کے مطابق یہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا اور انہوں نے خبر کو نہایت مشکل حالات میں انہیں بتایا۔ اب خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ فیصل الرحمٰن کی میت پاکستان منتقل کی جائے گی تاکہ انہیں وہاں سپرد خاک کیا جاسکے۔

فی الحال خاندان کی توجہ زخمی اہلیہ کی صحت، بچوں کی دیکھ بھال اور تدفین کے انتظامات پر مرکوز ہے۔ اہل خانہ نے اس واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انصاف چاہتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ محض دفاعِ خود نہیں تھا بلکہ ایک ایسا اقدام تھا جس نے ایک شخص کی جان لے لی، اس لیے وہ اس کیس کو قانونی طور پر آگے بڑھائیں گے۔

ساؤتھ افریقا میں موجود پاکستانی کمیونٹی کے مطابق یہ گزشتہ 3 دنوں میں پاکستانیوں کے قتل کی تیسری واردات ہے جسے ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کمیونٹی نے ساؤتھ افریقا میں پاکستانیوں کے لیے بڑھتی نفرت انگیزی کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور پاکستانیوں کی حفاظت کی یقین دہانی کے لیے حکومت سے اپیل کی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US