وفاقی حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا باضابطہ اعلان آئندہ پانچ سالہ نئی آٹو پالیسی میں متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نے نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔ پالیسی کی منظوری سے قبل اسے آئی ایم ایف کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔
مجوزہ پالیسی کے تحت گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی بتدریج کم کر کے پانچ سال کے دوران 15 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سیفٹی اسٹینڈرڈز اور لائسنسنگ نظام کو مزید سخت بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مقامی آٹو مینوفیکچررز نے پالیسی کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درآمدی گاڑیوں پر نرمی سے مقامی صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی حد پانچ سال تک بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جس کی مقامی صنعت کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔حتمی مسودہ جلد آئی ایم ایف کو پیش کیا جائے گا جس کے بعد منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں رکھا جائے گا اور پھر نئی آٹو پالیسی کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔