عالمی مالیاتی فنڈ کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان نے اپنے تجارتی نظام میں بڑی اصلاحات لانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعدد تجارتی رکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔
وزارت خزانہ پاکستان کے حکام کے مطابق نئے بجٹ میں 60 سے 70 غیر ضروری پابندیوں کے خاتمے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ درآمدات اور برآمدات پر عائد 2600 سے زائد رکاوٹوں کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے جن کا مقصد تجارتی نظام کو آسان اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق اوسط ٹیرف کو 10.7 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد تک لانے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ 2030 تک اسے مزید کم کر کے 7.4 فیصد تک کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی آئندہ چار سال میں مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
اصلاحاتی پیکج میں ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، لیدر اور کیمیکل سمیت اہم شعبوں میں رکاوٹیں ختم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے درآمدی لاگت میں کمی، جبکہ برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا جس میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف اور مختلف شعبوں میں ٹیکس مراعات میں تبدیلیوں کی تجاویز بھی شامل ہوں گی۔