پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی سے متعلق کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی جس کے مطابق مارکیٹ میں مجموعی طور پر 14.54 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی بحران اور امریکا-ایران کشیدگی کے باوجود مارکیٹ میں کمی محدود رہی۔ اس دوران عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 13 فیصد جبکہ امریکی سافٹ ویئر اسٹاکس میں 23 فیصد کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 100 انڈیکس جنوری میں 191,033 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچا تاہم سہ ماہی کے اختتام پر 148,743 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مارکیٹ کیپٹلائزیشن 19.69 کھرب روپے سے کم ہو کر 16.53 کھرب روپے رہ گئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 111.61 ارب روپے کے شیئرز فروخت کیے جبکہ مقامی سرمایہ کاروں نے تقریباً اتنی ہی مالیت کے شیئرز خرید کر مارکیٹ کو سہارا دیا۔
رپورٹ کے مطابق کمپنیوں نے 73.51 ارب روپے، میوچل فنڈز نے 23.78 ارب روپے جبکہ انفرادی سرمایہ کاروں نے 20.25 ارب روپے کی خریداری کی۔ ٹریڈنگ کے لحاظ سے نیشنل بینک آف پاکستان 182.42 ارب روپے کے حجم کے ساتھ سرفہرست رہا۔
مزید برآں جنوری تا مارچ کے دوران پرائمری مارکیٹ میں 3 نئے آئی پی اوز متعارف ہوئے، جبکہ حکومتی سکوک نیلامی میں 811.53 ارب روپے کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ ڈیٹ مارکیٹ میں 185.14 ارب روپے جبکہ بلز اینڈ بانڈز مارکیٹ میں 260.94 ارب روپے کا کاروبار ہوا۔