وزارت خزانہ پاکستان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک کھرب روپے سرکاری اداروں کے ذریعے کمرشل بینکوں میں موجود ہیں، جس کے بعد حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے مزید اکاؤنٹس کو مرکزی نظام میں لایا جائے گا۔
حکام کے مطابق 70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں تقریباً 290 ارب روپے موجود ہیں، کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے قبل بھی 242 اکاؤنٹس، جن میں 200 ارب روپے موجود تھے، اس نظام میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جہاں اراکین نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی۔
وزارت خزانہ کے حکام نے تصدیق کی کہ سرکاری اداروں کی بڑی رقوم اب بھی بینکوں میں موجود ہیں، جنہیں مرحلہ وار ٹی ایس اے کے تحت لانے کا عمل جاری ہے۔