وفاقی وزارت تجارت پاکستان نے آم کی برآمدات سے متعلق پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے یکم جون سے قبل آم کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے کسٹمز اور دیگر متعلقہ اداروں کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال آم کی برآمدات مشرق وسطیٰ کی صورتحال، مہنگے فریٹ اور موسمی تبدیلیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آم کی فصل کو بہتر ذائقہ، مٹھاس اور خوشبو کے لیے درختوں پر زیادہ وقت تک رکھنا ضروری ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال پاکستان سے دنیا بھر میں تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا جس کی مالیت 9 کروڑ ڈالر تھی۔
سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق رواں سیزن میں آم کی پیداوار 25 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ برآمدات کا ہدف 80 ہزار سے ایک لاکھ ٹن کے درمیان رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم کی برآمدات کے حتمی اہداف کا اعلان 15 مئی کو کیا جائے گا۔