سیمنٹ سیکٹر میں قیمتوں کے اضافے اور ممکنہ گٹھ جوڑ پر مسابقتی کمیشن کی تشویش

image

مسابقتی کمیشن پاکستان نے ملک کے سیمنٹ سیکٹر سے متعلق اہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے قیمتوں میں مسلسل اضافے، ممکنہ گٹھ جوڑ اور اسمگلنگ کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں سیمنٹ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ ہمسایہ ملک ایران سے اسمگل ہو کر آنے والا سیمنٹ نسبتاً سستا ہونے کے باعث مقامی مارکیٹ کو متاثر کر رہا ہے۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اس سیکٹر میں ممکنہ کارٹل یا گٹھ جوڑ کا خطرہ موجود ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 27 سیمنٹ پلانٹس کو 16 کمپنیاں چلا رہی ہیں جبکہ صرف 4 بڑی کمپنیاں تقریباً 56 فیصد مارکیٹ پر کنٹرول رکھتی ہیں جس سے مسابقت محدود ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ کوئلے کی درآمد میں اجارہ داری ختم کی جائے اور اسمگلنگ و جعلی سیمنٹ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کمیشن کے مطابق ماضی میں بھی سیمنٹ کمپنیوں پر 6.3 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ سیمنٹ کی قیمت میں ٹیکسز کا حصہ 38 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ چند سالوں میں فی بوری قیمت 822 روپے سے بڑھ کر 1091 روپے ہو گئی ہے اور بعض شہروں میں یہ قیمت 1600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو تعمیراتی لاگت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میں اسمگل شدہ اور جعلی سیمنٹ کی موجودگی صارفین کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US