آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے صدر قاسم شکارپوری نے کاروباری برادری اور بالخصوص جیولرز کے خلاف ہونے والی حالیہ محکمانہ کارروائیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر ایسوسی ایشن قاسم شکارپوری نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں کہا ہے کہ تاجر برادری اور کاروباری افراد کے خلاف حالیہ مبینہ زیادتیاں اور یکطرفہ کارروائیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاجر برادری پاکستان کے آئین کے تحت اپنے قانونی، کاروباری اور بنیادی حقوق رکھتی ہے، جن کا تحفظ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 14 کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تعاون کے باوجود تاجروں کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج سمجھ سے بالاتر ہے، انھوں نے ایف آئی آر فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خصوصی طور پر لاہور میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ملازمین کے رویے اور محکمے کی جانب سے کی جانے والی غیر منصفانہ کارروائیوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سمیت پورے ملک میں جیولر برادری کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو صریحاً ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف کاروباری ماحول کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ اس سے معاشی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
قاسم شکارپوری نے زور دیا کہ کاروباری افراد کے خلاف کسی بھی قسم کا دباؤ یا غیر قانونی طریقہ کار ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات کو شفاف، غیر جانبدار اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر حل کیا جائے تاکہ تاجروں کا ٹوٹتا ہوا اعتماد بحال ہوسکے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جیولرز کے خلاف جاری ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے اور تاجروں کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاجر معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اگر ان کے حقوق کا تحفظ نہ کیا گیا تو معاشی پہیہ جام ہوسکتا ہے۔