وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور تاجکستان کے سفیر شریف زادہ یوسف توئر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور تاجکستان نے باہمی تجارت اور ٹرانزٹ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے دوران وزیر تجارت نے علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے سہولت کاری کے عزم کا اظہار کیا اور لاجسٹکس نظام کی بہتری کے ساتھ متبادل تجارتی راستوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مربوط تجارتی راہداری کے قیام کو اہم قرار دیتے ہوئے نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانے کے لیے بزنس فورم کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی۔
اس موقع پر تاجک سفیر نے پاکستان کی علاقائی روابط بڑھانے کی کوششوں کو سراہا اور سستے و قابل اعتماد ٹرانزٹ روٹس کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجکستان اضافی توانائی پاکستان کو برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ ایلومینیم کی تجارت اور صنعتی تعاون کے وسیع مواقع بھی موجود ہیں۔
دونوں ممالک نے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے پلیٹ فارم کو مزید مؤثر بنانے اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ لاجسٹکس حب کے قیام اور جدید ٹرانسپورٹ نظام سے خطے میں روابط کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے، جبکہ چین کے ساتھ تعاون کو بھی علاقائی رابطوں کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
مزید برآں متعدد تجارتی راستوں کو فعال رکھنے اور برآمدی و درآمدی اداروں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے کی تجاویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔