حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے حوالے سے حتمی تاریخ کا تعین کرلیا ہے، جس کے تحت قومی ایئرلائن کی ملکیت رواں ماہ 25 مئی تک نجی شعبے کے حوالے کردی جائے گی۔ اس سلسلے میں اسٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن جلد ہی 'فرسٹ کلوزنگ ڈیٹ' کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
عارف حبیب کنسورشیم، جس نے پی آئی اے کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خرید لیے ہیں، مجموعی طور پر 180 ارب روپے میں ایئرلائن کا کنٹرول حاصل کرے گا۔ اس ڈیل کے تحت 55 ارب روپے براہِ راست حکومت کو ملیں گے، جبکہ بقیہ 125 ارب روپے پی آئی اے میں 'فریش ایکویٹی' کے طور پر دوبارہ سرمایہ کاری (ری انویسٹ) کیے جائیں گے تاکہ ادارے کی حالت زار کو بہتر بنایا جا سکے۔
پی آئی اے کی منتقلی کا یہ عمل معاہدے کی طے شدہ شرائط (کنڈیشن پریسڈینٹ) پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔ معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق، نئی منیجمنٹ چارج سنبھالنے کے بعد ایک سال تک پی آئی اے کے کسی بھی ملازم کو ملازمت سے فارغ کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔ نجکاری کمیشن اس وقت معاہدے کے تکنیکی مراحل کو مکمل کرنے میں مصروف ہے تاکہ 25 مئی تک تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔