حکومت کی مجوزہ نئی آٹو پالیسی اور آئندہ بجٹ کے لیے آٹو سیکٹر کو ریلیف دینے سے متعلق اہم تجاویز سامنے آگئی ہیں، جن کا مقصد صنعت کو فروغ دینا اور صارفین کے لیے گاڑیوں کو مزید قابلِ رسائی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق آٹو سیکٹر پر عائد اضافی کسٹم ڈیوٹی کے خاتمے اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت ڈیوٹیز میں مرحلہ وار کمی لانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
پالیسی میں بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ دیگر متبادل توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں کے پارٹس پر 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کر کے 9 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید تجاویز کے مطابق آٹو پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی 5 فیصد جبکہ اسمبلڈ یونٹس پر 10 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ سی کے ڈی کٹس پر 5 سے 10 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کی جاسکتی ہے۔
پالیسی میں الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور گاڑیوں کو بعض ڈیوٹی شرائط سے استثنیٰ دینے کی سفارش بھی شامل ہے، جبکہ مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کو درآمدی مکمل تیار گاڑیوں پر ترجیحی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقامی طور پر تیار گاڑیوں کے لیے اوسط ٹیرف 6 فیصد سے کم رکھنے کی تجویز ہے جبکہ پیٹرول سے چلنے والی درآمدی مکمل گاڑیوں پر ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آٹو سیکٹر کو دی جانے والی مراعات کو بتدریج نارمل ریجیم میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر ایک مستحکم اور مسابقتی مارکیٹ قائم کی جاسکے۔