پاکستان اور بنگلا دیش کے کرکٹ بورڈز نے ایشیائی اور بین الاقوامی کرکٹ فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے 2028-2031 کے فیوچر ٹورز پروگرام (FTP) میں عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے مزید حمایت حاصل کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قریبی ایک باخبر ذرائع نے اتوار کے روز بتایا کہ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی، جو بنگلا دیش کے دو روزہ دورے کے بعد واپس پہنچے ہیں، مثبت تاثرات کے ساتھ آئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ، "ڈھاکہ کے دورے کے دوران انہوں نے بنگلا دیش کے کھیلوں کے وزیر اور دیگر وزراء سے ملاقات کی، جبکہ بنگلا دیش کرکٹ کے عبوری سربراہ تمیم اقبال بھی ان کے ہمراہ تھے۔"
انہوں نے بتایا کہ محسن نقوی نے ملاقاتوں میں تفصیلی گفتگو کی کہ سب سے پہلے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں دو درجاتی (two-tier) نظام بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ ثانیاً، چیمپئن شپ کے اگلے ایڈیشن میں توازن لانے اور 2027 کے بعد نئے مالیاتی دور میں آئی سی سی ایونٹس کے حصص کی تقسیم میں بہتری لانے پر زور دیا گیا۔
ذرائع نے مزید کہا، "دونوں بورڈز نے اتفاق کیا کہ اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو میچوں کا بڑا حصہ ملتا ہے، جبکہ پاکستان، بنگلا دیش، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز جیسے ممالک کو شیڈول میں وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جس کے وہ حقدار ہیں۔"
ذرائع نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ڈھاکا میں ہونے والی بات چیت میں دیگر کرکٹ بورڈز کو بھی ساتھ ملانے اور آئی سی سی میں ایک مضبوط اوپینین بلاک (opinion bloc) بنانے کے ساتھ ساتھ ایشیائی سطح پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا، "محسن نقوی اور تمیم اقبال نے دیگر بورڈز سے بات کرنے اور انہیں آئی سی سی کی سطح پر حمایت کے لیے قائل کرنے پر اتفاق کیا، لیکن یہ طے پایا کہ پاکستان اور بنگلا دیش ایشیائی یا آئی سی سی کی سطح پر ہر معاملے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔"
ذرائع نے اس عام تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ بنگلا دیش میں نئی حکومت کے آنے کے بعد وہ بھارتی حکومت اور بورڈ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی طرف زیادہ مائل ہے۔
انہوں نے کہا، "بنگلا دیش کو یقیناً اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، لیکن بات چیت میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ ورلڈ ٹی 20 کپ کے معاملے پر دونوں بورڈز نے جس مفاہمت اور تعاون کا مظاہرہ کیا تھا، اسے ہر سطح پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔"