اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ملکی معیشت کی ششماہی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھری ہے، جس کے نہ رکنے کی صورت میں اقتصادی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی بے یقینی، سپلائی چین میں خلل اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بڑے چیلنجز ہیں، تاہم ان خطرات کے باوجود پاکستان کے بڑے معاشی اشاریے مستحکم ہوئے ہیں اور معیشت سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں مہنگائی 5.2 فیصد تک محدود رہی، جس کی بڑی وجوہات بجلی کے نرخوں میں کمی اور عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں نرمی بنی۔
اسٹیٹ بینک کا اندازہ ہے کہ حقیقی جی ڈی پی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے نچلے ہدف کے قریب رہے گی، جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا کہ سن 2002 کے بعد پہلی بار ملکی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہو گیا ہے، جس میں ترسیلاتِ زر کے مضبوط اضافے نے کلیدی کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں، خدمات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی نے معیشت کی رفتار کو مہمیز دی، البتہ چاول کی برآمدات میں کمی اور درآمدی حجم میں اضافے سے برآمدی آمدنی متاثر ہوئی۔
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2026 میں محتاط زری پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھیں تو مہنگائی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، جو مالی سال 2027 میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اوپر جاسکتی ہے۔
مزید برآں، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں 15ویں نمبر پر قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ کمزور برآمدات، کم ٹیکس شرح اور سرمایہ کاری کی کمی کو اب بھی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز سمجھا جارہا ہے۔