پاکستان کے صف اول کے بلے باز بابر اعظم کو بنگلا دیش کے خلاف سیریز کے بعد شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ کپتان بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل کے بقیہ میچوں کے لیے بابر کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان بنانے کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ منگل کو ڈھاکا میں بنگلا دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کے بعد ٹیم اور کپتان شان مسعود کی کارکردگی پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جو دونوں اننگز میں بلے بازی میں ناکام رہے۔
دسمبر 2023 سے شان کے دورِ کپتانی میں پاکستان 15 میں سے 11 ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے، جبکہ بابر گھٹنے کی تکلیف کے باعث پہلے ٹیسٹ میں شرکت نہیں کرسکے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ "پاکستان کرکٹ بورڈ میں کچھ بااثر شخصیات بھی بابر کی بطور کپتان واپسی چاہتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ بابر کو دوبارہ کپتانی دینے کا یہ بالکل صحیح وقت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ خود ٹیم کے اندر سے بھی بابر کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان بنانے کے لیے حمایت موجود ہے۔
اس وقت بنگلا دیش کا دورہ کرنے والے اسکواڈ میں تینوں فارمیٹس کے کپتان موجود ہیں، جن میں ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی اور ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، "اگر بابر دوسرا ٹیسٹ کھیلتے ہیں اور اپنی بیٹنگ فارم بحال کر لیتے ہیں، تو وہ کپتانی کی واپسی کے لیے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ بورڈ کے کچھ حکام کے ساتھ ابتدائی بات چیت سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ خود بھی دوبارہ کپتان بننے کے مخالف نہیں ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ منصوبہ یہ ہے کہ پہلے بابر کو ٹیسٹ کپتان کے طور پر واپس لایا جائے اور پھر اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل انہیں ون ڈے کی کپتانی سنبھالنے کے لیے بھی تیار کیا جائے۔ بابر 2019 سے 2023 کے درمیان تینوں فارمیٹس کے کپتان رہے تھے، جس کے بعد بھارت میں ہونے والے 2023 ورلڈ کپ کے بعد انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انہیں 2024 کے ورلڈ کپ کے لیے دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کپتان بنایا گیا تھا لیکن ٹورنامنٹ میں ناقص کارکردگی کے بعد انہوں نے دوبارہ استعفیٰ دے دیا تھا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شان مسعود پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد خود بھی شدید مایوس ہیں اور اب وہ پی سی بی میں کسی مستقل عہدے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے انہیں ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ اینڈ پلیئر افیئرز کے عہدے کی پیشکش کی تھی، لیکن اس وقت شان نے یہ کہہ کر معذرت کی تھی کہ وہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا موجودہ سائیکل مکمل کرنا چاہتے ہیں۔