اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے تحت ایگری فوڈ گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ پارٹنرشپ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں زرعی ترقی، فوڈ سیکیورٹی اور اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔
آئی سی سی آئی کے ڈائریکٹر خواجہ اشرف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اس وقت فوڈ سیکیورٹی کے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور موجودہ صورتحال میں 'گرین ورک پروجیکٹ' ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ کمیونٹی سپورٹ اور زرعی ترقی کے منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے اسلامک چیمبر کو ہر سطح پر تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو جی ڈی پی کا 23.4 فیصد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوڈ سیکٹر واحد شعبہ ہے جس سے خام مال درآمد کیے بغیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم بڑھتی آبادی اور شہروں کی گنجانیت زراعت کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی کی زرعی ٹاسک فورس کی کوششوں سے بیج کی درآمد پر عائد پابندی کا خاتمہ کروایا گیا ہے۔
سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے توانائی اور کھاد کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے کئی مسلم ممالک میں غذائی تحفظ کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامک چیمبر کے ممبران مل کر مسلم ممالک میں فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔