وزارتِ خزانہ نے سول حکومت کے اخراجات سے متعلق میڈیا میں آنے والی بعض رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخراجات کے اعداد و شمار کو مکمل تناظر کے بغیر پیش کیا گیا، جس سے درست صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے پہلے نو ماہ کے دوران سول حکومت کے اخراجات 559 ارب روپے تھے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے اسی عرصے میں یہ اخراجات 629 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے، یعنی مجموعی اضافہ 12.5 فیصد رہا۔
وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ ملازمین سے متعلق اخراجات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں کیا گیا اضافہ ہے۔
وزارت کے مطابق غیر ملازمتی اخراجات میں 31 ارب روپے اضافے کی رپورٹ سامنے آئی، تاہم اس اضافے کا بڑا حصہ توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے لیے مختص فنڈز پر مشتمل ہے۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال میں ای پی آئی پروگرام کے لیے 29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو بچوں کو خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا اہم قومی منصوبہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ای پی آئی پروگرام کے اخراجات کو الگ کر دیا جائے تو غیر ملازمتی اخراجات میں حقیقی اضافہ صرف 2 ارب روپے بنتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی صحت اور فلاحی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات کو نظر انداز کر کے بعض رپورٹس میں گمراہ کن تاثر پیش کیا گیا جبکہ حقائق کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔