ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز مارکیٹ میں ابتدا میں 425 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی تاہم بعد ازاں مندی کے دباؤ میں اضافہ ہوا اور ایک موقع پر 1200 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج 166000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد برقرار نہ رکھ سکی جبکہ ہنڈریڈ انڈیکس 903 پوائنٹس کی کمی کے بعد 165596 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور تیل کی بڑھتی عالمی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے جس کے باعث مارکیٹ میں سائیڈ لائن ٹریڈنگ کا رجحان غالب رہا۔
ادھر کرنسی مارکیٹ میں معمولی بہتری دیکھی گئی جہاں انٹر بینک میں امریکی ڈالر ایک پیسہ سستا ہو کر 278 روپے 61 پیسے پر بند ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق روپے کی قدر میں معمولی استحکام ریکارڈ کیا گیا۔