ٹڈاپ کے سابق چیئرمین اور بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت، برآمدات اور کاروباری لاگت کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اوورسیز پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر ارسال کر کے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس کیا، اور اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال کے پیش نظر ان سے گزارش ہے کہ وہ رواں مالی سال بھی پاکستان کو معاشی خسارے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ برآمدات میں اضافے کے بغیر مالیاتی خسارے پر قابو پانا ممکن نہیں ہے، تاہم حکومت کی جانب سے فی الحال برآمدات بڑھانے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔
زبیر موتی والا نے کاروباری لاگت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بزنس کا خرچہ بڑھنے کی وجہ محض بلند شرح سود ہی نہیں بلکہ توانائی کے ہوشربا نرخ بھی ہیں۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک اپنا کام بہتر طریقے سے سرانجام دے رہا ہے اور وزیر اعظم بھی دلی طور پر چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کاروباری لاگت کو کم کر کے بنگلا دیش کے برابر لایا جائے، لیکن اس لاگت میں کمی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہیں۔