حوالہ ہنڈی کا نیٹ ورک کنٹرول کرنے سے ترسیلاتِ زر میں بہتری آئی، گورنر اسٹیٹ بینک

image

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں تاجروں اور صنعت کاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر، مہنگائی اور چھوٹے و متوسط کاروبار (SMEs) کے حوالے سے تفصیلی پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورک کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی بدولت ترسیلاتِ زر میں نمایاں بہتری آئی ہے جہاں گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، رواں مالی سال یہ حجم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قرضوں کو کنٹرول میں رکھنے کی حکومتی و مرکزی بینک کی کوششوں کے باعث گزشتہ 3 برسوں میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے، اور اگرچہ مالی سال 2026ء کے آخری تین مہینوں میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کرنٹ اکاؤنٹ کو متاثر کرسکتی ہیں، تاہم مجموعی طور پر رواں سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح یعنی 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے۔

معاشی نمو اور مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ادارہ شماریات نے 9 ماہ میں جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد لگایا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی پیش گوئی کے مطابق یہ شرح 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، اگرچہ آخری سہ ماہی میں معاشی نمو تھوڑی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عارضی طور پر مہنگائی میں مزید کچھ اضافہ ہوگا اور مالی سال کی آخری سہ ماہی میں یہ شرح 7 فیصد سے تجاوز کر جائے گی، لیکن آگے چل کر اس میں بتدریج کمی آئے گی اور مرکزی بینک کا حتمی ہدف مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیان لانا ہے۔

گورنر جمیل احمد نے چھوٹے اور متوسط کاروبار (SMEs) کو ملکی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تمام بینک اپنا ایس ایم ای پلان بنانے کے پابند ہیں اور ان قرضوں کی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے صرف ایک صفحے کا آسان فارم جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت اور وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی کے باعث ایس ایم ایز کو جاری قرضے جو جون 2024ء میں 491 ارب روپے تھے، دسمبر 2025ء تک بڑھا کر 882 ارب روپے کر دیے گئے ہیں اور اب جون 2028ء تک انہیں 1500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

برآمدات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتیں گرنے سے چاول کی برآمدی قیمت میں 1 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ سال کی 32 ارب ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں رواں سال 30 ارب ڈالر کا تخمینہ ہے، تاہم حکومت برآمدات بڑھانے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جس کے مثبت نتائج آئندہ دو ماہ میں سامنے آئیں گے۔

تاجر برادری کی سہولت کے لیے گورنر نے اہم اعلانات کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسپورٹرز کے لیے اپنی برآمدی آمدنی ملک میں واپس لانے کی مقررہ مہلت 120 دن ہے جس کے بعد 15 دن کا گریس پیریڈ بھی دستیاب ہے، اور اسٹیٹ بینک تاجروں کے مطالبے پر اس مجموعی 135 دن کی مہلت کو مزید بڑھانے کے لیے بھی تیار ہے۔ اس کے علاوہ امپورٹ کے لیے تمام بینکوں کو اپنی گنجائش کے مطابق فارورڈ بکنگ کی اجازت دے دی گئی ہے۔

انہوں نے صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کا کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ مکمل فعال ہے اور بینکنگ سے متعلق کسی بھی شکایت کے لیے مرکزی بینک کی ویب سائٹ پر 'سنوائی' نامی پورٹل موجود ہے جس کی مانیٹرنگ خود اسٹیٹ بینک کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید تصدیق کی کہ ایگزم (EXIM) بینک بھی مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے، جہاں ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم پر کام جاری ہے اور اس کے تحت ایکسپورٹرز کو انشورنس کور بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ملکی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین سال قبل کے مقابلے میں آج کے معاشی حالات میں نمایاں فرق اور بہتری آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاشی بحالی کے باوجود ہمیں اب بھی کئی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق سال 2023ء کی نسبت سال 2026ء میں لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھلنے کے عمل میں کافی بہتری آئی ہے، جس کے باعث پاکستان کی اوسط درآمدات اس وقت ماہانہ 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ اس کے برعکس تین سال قبل ملکی ماہانہ درآمدات اوسطاً محض 3 ارب ڈالر تک محدود تھیں۔

مزید برآں گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں تبدیلیوں اور بہتری کے لیے حکومت کی جانب سے واپسی کے بعد ان پر دوبارہ کام جاری ہے، جس کے باعث نئے نوٹوں کے اجراء میں تاخیر کا امکان ہے اور اس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔

کراچی میں منشیات اسمگلنگ کیس کی مبینہ سربراہ "انمول عرف پنکی" کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک کا فائنانشل مانیٹرنگ یونٹ ایسی تمام سرگرمیوں کو ٹریک کر کے سیکیورٹی اداروں کو رپورٹ کرتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران پاکستانی معیشت کے لیے چیلنج بن سکتا ہے، جبکہ لائسنس یافتہ کرپٹو و ورچوئل ایسٹس اداروں کو جلد بینک اکاؤنٹس اور ٹریڈنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US