کراچی میں وفاقی وزیر خزانہ اور تاجروں کی ملک گیر تنظیم ایف پی سی سی آئی کے وفد کے درمیان بجٹ سے قبل ایک اہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی جو ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ تاجر دوست اور ملکی معیشت کے لیے اچھا ہوگا۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کے مطابق وفد نے وزیر خزانہ کے سامنے چار بڑے مطالبات پیش کیے۔
ان مطالبات میں پہلا مطالبہ یہ تھا کہ ایکسپورٹ کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کو بحال کیا جائے، کیونکہ پچھلے بجٹ میں اسے ختم کرنے سے برآمدات متاثر ہوئیں۔ دوسرا مطالبہ یہ کیا گیا کہ آئندہ بجٹ میں سپر ٹیکس کو ختم کرنے کا اعلان کیا جائے۔ تیسرے مطالبے میں رجسٹرڈ تاجروں کی جانب سے ان رجسٹرڈ تاجروں کو مال کی فروخت پر عائد ٹیکس کو ختم کرنے پر زور دیا گیا، کیونکہ تاجر وفد کا مؤقف ہے کہ رجسٹرڈ پر نان رجسٹرڈ کے ساتھ کاروبار پر ٹیکس عائد ہونے سے حکومت کو خود بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔ چوتھا مطالبہ یہ پیش کیا گیا کہ بنولہ اور کھل پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے کیونکہ جب بنولہ اور کھل پر ان پٹ ٹیکس نہیں ہے تو آؤٹ پٹ ٹیکس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
ملاقات کے بعد فیڈریشن کے نائب صدر آصف سچو نے بتایا کہ وزیر خزانہ نے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فیڈریشن کی جانب سے دی جانے والی ان تجاویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔