کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ (جاری کھاتہ) آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کے باعث خسارے میں چلا گیا ہے۔
مسلسل تین ماہ تک سرپلس رہنے کے بعد رواں سال پہلی بار ملکی کرنٹ اکاؤنٹ اپریل میں 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے کا شکار ہوا ہے۔ اس سے قبل جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ 7 کروڑ ڈالر، فروری میں 23 کروڑ ڈالر اور مارچ میں ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سرپلس رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدات بڑھنے، برآمدات گھٹنے اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ متاثر ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر 25 کروڑ ڈالر منفی رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے (پہلے دس ماہ) میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 1.66 ارب ڈالر سرپلس رہا تھا۔