پاکستان ٹیم کے باولنگ کوچ عمر گل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم کے پاس میچ جیتنے کا اب بھی مکمل موقع موجود ہے اور اگر دو دن اچھی بیٹنگ ہو جائے تو 437 رنز کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے پاس فتح کا امکان ہے اور پاکستان ٹیم ذہنی طور پر ہدف کے تعاقب کے لیے تیار ہے۔ عمر گل کے مطابق میچ جیتنے کے لیے دو سے تین بڑی پارٹنرشپس انتہائی ضروری ہوں گی۔
بولنگ کوچ نے کہا کہ پہلے روز پچ بولرز کے لیے سازگار تھی جہاں نمی اور سوئنگ موجود تھی تاہم دوسرے اور تیسرے دن بیٹرز کو کافی مدد ملی اور بنگلادیشی بیٹرز نے شاندار کھیل پیش کیا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان ٹیم ریویوز کا بہتر استعمال نہیں کر سکی جبکہ بولرز بدقسمت بھی رہے۔ عمر گل کے مطابق پاکستانی بولرز کی اسپیڈ اور انرجی برقرار ہے لیکن مسلسل ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کے باعث ردھم متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم تقریباً چھ ماہ بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہی ہے جبکہ گرمی اور نمی والے موسم میں بولرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شاہین آفریدی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے عمر گل نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ شاہین نے کوچ کی بات نہ مانی ہو۔ ان کے مطابق حسن علی کے سر پر گیند لگنے کے بعد شاہین سے میدان میں جانے کے لیے کہا گیا تھا تاہم ویڈیو کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔