پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج (پی ایم ای ایکس) نے چاندی کی تجارت کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں انویسٹرز کے لیے چار ماہ بعد سلور ٹریڈنگ دوبارہ بحال کردی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پی میکس نے رواں سال جنوری میں سلور ٹریڈنگ پر عارضی پابندی عائد کردی تھی۔
پی میکس کے نوٹیفکیشن کے مطابق سلور ٹریڈنگ کی اجازت فی الحال محدود لاٹ میں دی گئی ہے، جس کے تحت اب کوئی بھی ایک انویسٹر چاندی کے 10 سے زیادہ فیوچر کنٹریکٹ حاصل نہیں کر سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی کے تحت ایک انویسٹر 100 اونس چاندی کے 5 سے زیادہ فیوچر کنٹریکٹ لینے کا مجاز نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ مرکنٹائل ایکسچینج نے سلور ٹریڈنگ کے لیے مارجن کی شرح میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق چاندی کی ٹریڈنگ کے لیے مارجن جمع کرانے کی نئی شرح 11.75 فیصد مقرر کی گئی ہے، جو کہ اس سے قبل صرف 6.5 فیصد تھی۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں سلور ٹریڈنگ کی صورتحال اور مارکیٹ کے رویے کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل میں مارجن میں کمی اور محدود لاٹ کی یہ پابندی ختم کر دی جائے گی۔