شہرِ قائد میں سوشل میڈیا، موبائل فونز اور واٹس ایپ کے ذریعے آن لائن منشیات فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کی مرتب کردہ ایک انتہائی خفیہ اور تفصیلی فہرست منظرِ عام پر آگئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کراچی کے 7 اضلاع میں آن لائن نشے کا دھندا کرنے والے 70 بڑے منشیات فروش سرگرم ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے تھانے درخشاں کی حدود میں 'ڈرگ کوئین' کے نام سے انمول عرف پنکی بڑے پیمانے پر آن لائن منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ہی صدر تھانے کی حدود میں سمیرہ عرف بے بی نامی خاتون آن لائن منشیات کا بڑا سیٹ اپ سنبھالے ہوئے ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ کیماڑی کے علاقے سائٹ اے کی حدود میں دو خواتین لال جان اور مہرالنساء عرف بیبل اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث پائی گئی ہیں۔
فہرست کے مطابق آن لائن منشیات فروخت کرنے والے سب سے زیادہ 45 ڈیلرز ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں سرگرم ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں 7، ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 5، ڈسٹرکٹ ایسٹ میں 4، ڈسٹرکٹ کیماڑی میں 4، ڈسٹرکٹ سٹی میں 3 اور ڈسٹرکٹ ملیر میں 2 ڈیلرز آن لائن دھندا کر رہے ہیں۔ ان ڈیلرز میں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے منشیات فروش بھی شامل ہیں جو تعلیمی اداروں یعنی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو آئس کرسٹل اور ویڈ (حشیش) سپلائی کرتے ہیں۔
پنکی سے رابطے میں رہنے والے سی ٹی ڈی کے 2 اہلکار زیر حراست
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران محکمہ داخلہ کے اپنے ہی دو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اے ایس آئی کفیل اور سپاہی علی قریشی نامی یہ دونوں اہلکار مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور اسے معاونت فراہم کر رہے تھے، جنہیں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔