آم کی برآمد کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایکسپورٹرز کے لیے بڑی سہولت فراہم کر دی ہے جس کے بعد براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک کو آم کی برآمد میں حائل رکاوٹیں کافی حد تک دور ہو گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے آم کے ایکسپورٹرز کو مالیاتی دستاویز (F.I سرٹیفکیٹ) سے چار ماہ کے لیے استثنیٰ دے دیا ہے۔ یہ رعایت یکم جون سے ستمبر تک نافذ العمل رہے گی۔
فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایسوسی ایشن کے رہنما وحید احمد کے مطابق اس فیصلے سے آم کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں رواں سال آم کی پیداوار کا تخمینہ 25 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے جبکہ رواں سیزن میں 80 ہزار ٹن آم برآمد ہونے کی توقع ہے۔
وحید احمد نے مزید کہا کہ ایسوسی ایشن 25 مئی کو آم کی برآمد کے حتمی ہدف کا اعلان کرے گی تاہم براستہ ایران اضافی ٹرانسپورٹ اخراجات کے باعث برآمدات میں کچھ کمی کا امکان بھی موجود ہے۔