ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے چیئرمین حسن بخشی نے کہا ہے کہ زمینوں پر قبضے کے مقدمات عدالتوں میں برسوں تک زیر التوا رہنے کے باعث قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچتا ہے اور بلڈرز کو مجبوراََ مذاکرات کی طرف جانا پڑتا ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وکلا اور آباد کے نمائندوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔
چیئرمین آباد نے کہا کہ عدالتی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں اور اگر ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانی ہے تو انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق لوئر کورٹس میں کیسز کا بوجھ بڑھنے کے باعث نئی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آباد کے ممبران کے پلاٹوں پر قبضے کے بعد عدالتوں میں کیسز دائر کیے جاتے ہیں مگر طویل تاریخوں کے باعث قبضہ گروپ فائدہ اٹھاتے ہیں اور متاثرہ افراد دباؤ میں آ کر مذاکرات پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسیب جمالی نے کہا کہ وکلا بھی نظام کی خامیوں کے باعث مسائل کا شکار ہیں اور ججز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔
آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے اجلاس میں بتایا کہ زمینوں پر قبضوں اور قانونی مسائل کے حل کے لیے 36 صفحات پر مشتمل تجاویز متعلقہ حکام کو ارسال کی جا چکی ہیں، جبکہ وزیراعظم کو لینڈ ڈسٹری بیوشن کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔