حکومت محصولات میں اضافے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے، وزیر خزانہ

image

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام میں شفافیت اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دینے کے لیے جامع مالیاتی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

یہ بات انہوں نے فنانس ڈویژن میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت ایریا ڈائریکٹر (APMEAC) اور جنرل منیجر پاکستان عثمان ظہور کر رہے تھے، جبکہ وفد میں مارکیٹنگ، کارپوریٹ افیئرز اور مالیاتی امور سے متعلق سینئر نمائندگان بھی شامل تھے۔

وزیر خزانہ نے حکومت کے مالیاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں بہتری، ٹیکس نیٹ میں توسیع، مؤثر نفاذ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس انتظامیہ میں جاری اصلاحات لوگوں، نظام اور ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں تاکہ محصولات کی وصولی بہتر ہو اور مالیاتی بے ضابطگیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جاسکے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ شوگر، سیمنٹ، مشروبات، ٹیکسٹائل اور تمباکو سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مربوط کارروائیوں کے باعث غیر قانونی اور غیر دستاویزی سرگرمیوں کے خلاف پیشرفت ہوئی ہے۔

پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے وفد نے حکومتی اصلاحات اور نفاذی اقدامات کو سراہتے ہوئے تمباکو صنعت سے متعلق امور، ایکسائز ٹیکسیشن، غیر قانونی تجارت، مارکیٹ کی صورتحال اور برآمدی مسابقت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وفد نے غیر قانونی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کے خلاف حالیہ کارروائیوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے مستحکم اور قابلِ پیشگوئی ٹیکس نظام کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات میں ریگولیٹری اور ٹیکس امور، شعبہ جاتی مسابقت، مارکیٹ رجحانات اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر نفاذی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی سرگرمیوں اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے کو اہمیت دیتی ہے اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US