لاہور ایئرپورٹ سے مبینہ طور پر لاپتا ہونے والی سوئس شہری خاتون صوفیہ ماریہ ملر کو پولیس نے چند گھنٹوں کے اندر بحفاظت بازیاب کروالیا، جبکہ واقعے میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق صوفیہ ماریہ ملر ترکش ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے امریکا سے لاہور پہنچی تھیں، تاہم ایئرپورٹ سے باہر آنے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ خاتون کے نیپالی شہری شوہر کی درخواست پر تھانہ سرور روڈ میں اغوا کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سوئس خاتون کو بحریہ ٹاؤن کے ایک ہوٹل سے بحفاظت بازیاب کرالیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ خاتون مبینہ طور پر فراڈ میں ملوث ٹور آپریٹرز کے جھانسے میں آئی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مزید حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی کینٹ کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے جائیں۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے لاہور پہنچنے کے بعد اپنے شوہر سے رابطہ کیا تھا، تاہم بعد ازاں ان کا موبائل فون اور واٹس ایپ بند ہوگیا، جس پر شوہر نے اغوا کی شکایت درج کروائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے اور جلد مکمل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔