"میں دہلی کی سڑکوں پر خود کو نابینا ظاہر کرکے بھیک مانگا کرتا تھا۔ ایک دن کچھ لوگ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا تم اداکاری کرسکتے ہو؟ میں نے ہنس کر جواب دیا کہ۔ مجھے ایک نمبر اور چند روپے دیے گئے اور اگلے دن بلایا گیا۔ وہاں میرے جیسے کئی لوگ موجود تھے لیکن قسمت نے میرا ساتھ دیا اور میرا انتخاب ہوگیا۔ جب مجھے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب میرے ساتھ ہو رہا ہے۔ آج لوگ مجھے پہچانتے ہیں، میرا اپنا کاروبار ہے اور میں مستقبل میں مزید فلموں میں کام کرنے کی امید رکھتا ہوں۔"
کبھی سڑک کنارے کشکول ہاتھ میں لیے لوگوں سے مدد مانگنے والا منوج رائے شاید خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی زندگی کا سب سے اہم موڑ صرف چند سیکنڈ کی اداکاری بن جائے گا۔ بالی وڈ کی کامیاب فلم "پی کے" میں اس کا کردار انتہائی مختصر تھا، لیکن اس مختصر موجودگی نے اسے ایسی پہچان دی جس نے غربت اور بے بسی سے نکلنے کا راستہ کھول دیا۔
آسام کے ضلع سونیت پور سے تعلق رکھنے والے منوج رائے کا بچپن شدید مالی مشکلات میں گزرا۔ کم عمری میں والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا جبکہ والد بیماری کے باعث کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ حالات نے اسے تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور روزگار کی تلاش اسے دہلی لے آئی، جہاں اس نے زندگی گزارنے کے لیے بھیک مانگنا شروع کر دی۔
قسمت نے اس وقت کروٹ لی جب فلم "پی کے" کے لیے حقیقی بھکاریوں کی تلاش جاری تھی۔ متعدد امیدواروں میں سے منوج کا انتخاب کیا گیا۔ فلم میں اس کا منظر مختصر ضرور تھا، مگر اس کے عوض ملنے والی رقم اور اس تجربے نے اس کی سوچ بدل دی۔ فلم مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے گاؤں واپس لوٹا تو لوگوں نے اسے ایک نئی نظر سے دیکھا۔
منوج نے فیصلہ کیا کہ اب وہ دوبارہ سڑک پر نہیں بیٹھے گا۔ اس نے ملنے والی رقم اور مقامی حمایت کے ساتھ ایک چھوٹی کریانہ دکان قائم کی، جو وقت کے ساتھ اس کا مستقل ذریعہ معاش بن گئی۔ آج وہ اسی کاروبار کے ذریعے زندگی گزار رہا ہے اور اپنی پرانی زندگی کو ایک مشکل مگر اہم سبق کے طور پر یاد کرتا ہے۔
منوج کے مطابق فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام، فلمی ستاروں کے ساتھ وقت گزارنا اور شوٹنگ کا تجربہ اس کے لیے کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تھیں، لیکن فلم نے اسے نہ صرف مالی سہارا دیا بلکہ خود اعتمادی بھی عطا کی۔
آج منوج رائے اپنی زندگی کے نئے باب میں داخل ہوچکا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر متحرک ہے اور آسامی و بنگالی فلموں میں کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس کی کہانی اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات زندگی بدلنے کے لیے ایک چھوٹا سا موقع ہی کافی ہوتا ہے۔