کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن نمبر 10 میں نو بیاہتا نوجوان حمزہ کی پھندا لگی لاش گھر سے برآمد ہوئی ہے جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے متوفی کی اہلیہ جو سندھ پولیس میں لیڈی کانسٹیبل ہے کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نوجوان نے خودکشی کی یا اسے قتل کیا گیا، تاہم ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ کیمیکل رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔
اہلخانہ کے مطابق حمزہ نے دو ماہ قبل دعا نامی لیڈی کانسٹیبل سے پسند کی شادی کی تھی اور 18 جون کو اس کا ولیمہ ہونا تھا۔ والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کسی قسم کی پریشانی کا شکار نہیں تھا اور ولیمے کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔
متوفی کے والد ظہور الدین نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو لاش لٹکی ہوئی تھی اور رسی کی حالت مشکوک لگ رہی تھی۔ والدہ نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی بہو نے حمزہ کو قتل کیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق حمزہ غیر شادی شدہ تھا جبکہ اس کی اہلیہ پہلے سے شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔