جھنگ کی 18 سالہ طالبہ ایشل فاطمہ کے ساتھ پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے ملک کو سوگ اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک ایسی نوجوان لڑکی جو اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے کالج گئی تھی چند گھنٹوں بعد اس کی زندگی ایک ہولناک المیے میں تبدیل ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق ایشل فاطمہ 4 جون کو رول نمبر سلپ لینے کے لیے کالج گئی تھی لیکن واپسی پر لاپتہ ہو گئی۔ اہل خانہ نے تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ طالبہ کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ بعد ازاں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا اور وہ شدید جسمانی و ذہنی اذیت کے بعد اسپتال میں دم توڑ گئی۔
متاثرہ طالبہ کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی اور صرف تعلیمی مقصد کے لیے گھر سے نکلی تھی۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کی بیٹی ایک ایسے ظلم کا شکار ہو جائے گی جو ان کی پوری زندگی کا سکون چھین لے گا۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایشل فاطمہ کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل واقعات عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ چند روز قبل ایک کم عمر گھریلو ملازمہ مبینہ زیادتی کے بعد اسقاط حمل کی پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار گئی تھی۔ دوسری جانب کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینک کر ان کا چہرہ جھلسا دیا گیا جبکہ کراچی میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا کہ اس نے اس کی ایک بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
خواتین کے خلاف تشدد، جنسی جرائم اور قتل کے ان پے در پے واقعات نے نہ صرف عوام بلکہ شوبز شخصیات کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ متعدد فنکاروں نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
صبا قمر، فضیلہ قاضی، مومنہ اقبال، سدرہ نیازی، حدیقہ کیانی اور مدیحہ رضوی سمیت کئی معروف شخصیات نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح بشریٰ انصاری اور مشی خان نے ویڈیوز کے ذریعے پاکستانی معاشرے اور انصاف کے نظام پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک بیٹیاں اس طرح ظلم کا نشانہ بنتی رہیں گی۔
سوشل میڈیا پر بھی عوامی ردعمل شدید ہے۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جنسی جرائم خطرناک حد تک بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ مجرموں کو مؤثر سزائیں نہ ملنے کے باعث ایسے واقعات رکنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔ کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ خواتین کو نشانہ بنانے والے ایسے عناصر یا تو ذہنی طور پر بیمار ہیں یا اپنی انا کی تسکین کے لیے انسانیت کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔
متعدد شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کو عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی درندگی کا سوچ بھی نہ سکے۔ جبکہ دیگر افراد کا کہنا ہے کہ اگر قانون کی گرفت مضبوط نہ ہوئی تو معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور بے اعتمادی مزید بڑھتی جائے گی۔
ایشل فاطمہ اب اس دنیا میں نہیں رہی لیکن اس کی المناک موت ایک ایسا سوال چھوڑ گئی ہے جس کا جواب پورا معاشرہ تلاش کر رہا ہے آخر پاکستان کی بیٹیاں کب محفوظ ہوں گی؟