بیٹی اپنی پسند سے شادی کرنا چاہے تو مجھے اعتراض نہیں ہوگا، ندا یاسر

image

میرا ماننا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کو اتنی سمجھ بوجھ اور اعتماد دینا چاہیے کہ وہ اپنے لیے ایسا جیون ساتھی منتخب کریں جس پر ہمیں اعتراض کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ میرے والدین نے بھی میرے ساتھ یہی رویہ اپنایا تھا۔ اگر میری بیٹی کسی کو پسند کرتی ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ میں اس کی پسند کو ترجیح دوں گی۔ ایک ماں کے طور پر میں ہمیشہ اپنی بیٹی کی خواہشات کا احترام کرتی آئی ہوں اور میں نے کبھی اس کی پسند پر پابندی نہیں لگائی۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں نے اسے دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور لوگوں سے ملنے کے کافی مواقع دیے ہیں، اس لیے وہ اپنے مستقبل کے شریکِ حیات کے انتخاب کے حوالے سے بہتر فیصلہ کر سکتی ہے۔

پاکستان کی معروف مارننگ شو میزبان ندا یاسر نے اپنی بیٹی کی شادی اور مستقبل کے داماد کے حوالے سے اپنی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے ایسا بیان دیا ہے جس نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔

مقبول مارننگ شو میں گفتگو کے دوران جب مہمان غزل صدیقی نے ندا یاسر سے سوال کیا کہ اگر ان کی بیٹی مستقبل میں کسی کو پسند کرکے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کرے تو وہ ایک داماد میں کن خوبیوں کو دیکھیں گی تو ندا یاسر نے روایتی سوچ کے برعکس کھل کر اپنی رائے پیش کی۔

ندا یاسر کا کہنا تھا کہ والدین کی اصل ذمہ داری بچوں کو صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ انہیں اتنی فہم، شعور اور خود اعتمادی دینا بھی ہے کہ وہ زندگی کے اہم فیصلے درست انداز میں کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے والدین نے بھی ان پر اعتماد کیا تھا، اسی لیے وہ اپنی بیٹی پر بھی اعتماد کرتی ہیں۔

مارننگ شو کی میزبان نے مزید کہا کہ ایک ماں ہونے کے ناطے وہ اپنی بیٹی کی پسند کا احترام کریں گی اور اگر اس نے کسی کو اپنے لیے منتخب کیا تو وہ یقین کریں گی کہ یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہوگا۔ البتہ انہوں نے مسکراتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایک والد کے طور پر یاسر نواز شاید کچھ دیگر پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھیں۔

ندا یاسر نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو محدود ماحول میں نہیں رکھا بلکہ اسے دنیا کو سمجھنے، مختلف لوگوں سے ملنے اور زندگی کے تجربات حاصل کرنے کا موقع دیا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنی بیٹی کی فیصلہ سازی پر مکمل اعتماد ہے۔

ندا یاسر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین نے اسے جدید اور اعتماد پر مبنی والدین کی سوچ قرار دیا جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی پسند کے ساتھ ساتھ خاندان اور کردار جیسے عوامل کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

تاہم ندا یاسر کا یہ بیان ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر گیا ہے کہ شادی جیسے اہم فیصلے میں والدین کا کردار کتنا ہونا چاہیے اور نئی نسل کو اپنی زندگی کے فیصلوں میں کتنی آزادی دی جانی چاہیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US