سرجانی میں تشدد سے مرنے والی لڑکی کے کیس میں نیا موڑ، شوہر کا سسرالیوں پر الزام

image

سرجانی ٹاؤن میں مبینہ طور پر شوہر کے تشدد سے جان کی بازی ہارنے والی لڑکی کا کیس نیا موڑ اختیار کرگیا۔ شوہر نے سسرالیوں پر ہی بیوی کے قتل کا الزام لگا دیا۔

بتایا گیا ہے کہ سرجانی ٹاؤن کے سیف المری گوٹھ کی رہائشی مصباح نے کچھ عرصہ قبل شہریار نامی نوجوان سے پسند کی شادی کی تھی اور وہ ملیر کے علاقے میں رہائش پذیر تھیں، جہاں مبینہ طور پر سسرال والوں اور شوہر کی جانب سے جہیز میں موٹر سائیکل کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ لڑکی کے غریب خاندان کے لیے یہ مطالبہ پورا کرنا ممکن نہ تھا، جس پر مصباح کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

مقتولہ کے بھائی کا الزام ہے کہ شادی کے بعد معلوم ہوا کہ ملزم پہلے سے چار شادیاں کرچکا ہے، بے روزگار ہے اور اس نے پولیس میں نوکری کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ گزشتہ دنوں شوہر کے مبینہ بے رحمانہ تشدد کے بعد مصباح زخمی حالت میں اپنے میکے پہنچیں، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ عباسی شہید ہسپتال کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق مقتولہ کے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔

کیس میں نیا موڑ اس وقت آیا جب ملزم شہریار کا ایک ویڈیو بیان منظرِ عام پر آیا، جس میں وہ انتہائی بے باک انداز میں، منہ میں گٹکا دبائے، کان میں بالی پہنے اور مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مقتولہ کی ماں پر سنگین الزامات عائد کر رہا ہے۔ ملزم نے اس ویڈیو میں مقتولہ کے اہلخانہ کو کھلے عام دھمکیاں دیں اور مصباح پر کیے جانے والے ہر قسم کے تشدد سے صاف مکرتے ہوئے خود کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔

دوسری جانب مقتولہ کے بھائی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے واقعے کی رپورٹ درج کروانے کے لیے سرجانی ٹاؤن تھانے سے رجوع کیا تو پولیس نے حدود کا عذر پیش کرتے ہوئے کیس درج کرنے سے انکار کردیا اور موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ملیر ضلع کا ہے۔

میڈیا پر واقعہ رپورٹ ہونے کے بعد سرجانی ٹاؤن پولیس نے شہریار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، ذرائع کے مطابق پولیس کی سست روی کے باعث ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کرانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔

مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس کی بہن کے قاتل کی اس دھمکی آمیز ویڈیو کے بعد مقتولہ کے اہلخانہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US