"میرا خیال ہے کہ جانوروں پر مختلف تجربات کرنے کے بجائے یہ آزمائشیں جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد پر کی جانی چاہئیں۔ پھر شاید انہیں احساس ہو کہ تکلیف اور بے بسی کیا ہوتی ہے۔"
پاکستانی اداکارہ مریم نفیس نے حالیہ دنوں میں ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم اور افسوسناک واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ایسی پوسٹ شیئر کی ہے جس نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی۔ اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے جنسی زیادتی کے مجرموں کے حوالے سے سخت مؤقف کا اظہار کیا، جس پر صارفین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
مریم نفیس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ جانوروں پر کیے جانے والے سائنسی تجربات کے بجائے ایسے افراد کو استعمال کیا جانا چاہیے جو جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث پائے جائیں۔ پوسٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ اگر ایسے مجرم خود اسی صورتحال کا سامنا کریں تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔
اداکارہ کی جانب سے یہ پیغام شیئر ہوتے ہی متعدد سوشل میڈیا صفحات نے اسے آگے پھیلایا، جس کے بعد صارفین نے اس پر بھرپور تبصرے کیے۔ کئی افراد نے مریم نفیس کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے مجرموں کو طبی تحقیق اور سائنسی مطالعات میں استعمال کرنے کی تجویز قابل غور ہے، جبکہ بعض نے رائے دی کہ تیزاب گردی جیسے جرائم میں ملوث افراد کے لیے بھی سخت ترین سزاؤں پر غور ہونا چاہیے۔
دوسری جانب بعض صارفین نے اس بحث کو پاکستان کے عدالتی اور قانونی نظام سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ مجرموں کی بروقت گرفتاری اور سزا کا ہے۔ ایک خاتون صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ جب تک ریپ کے مقدمات میں ملوث افراد کو یقینی طور پر قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، تب تک ایسے جرائم کے خاتمے کی امید کرنا مشکل ہے۔
مریم نفیس کی جانب سے شیئر کی گئی یہ پوسٹ ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لے آئی ہے کہ جنسی تشدد جیسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے اور مجرموں کو اپنے اعمال کا حساب دینا پڑے۔