"لوگ بہت سادہ ہوتے ہیں اور کیمرے پر بولی جانے والی ہر بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ کانٹینٹ کریئیٹرز اکثر شہرت اور فائدے کے لیے متنازع کہانیاں بناتے ہیں۔ میرا اور رجب بٹ کا تنازع بھی پہلے سے طے شدہ تھا، مجھے شہرت چاہیے تھی جبکہ رجب بٹ خود کو مظلوم دکھانا چاہتے تھے، اس لیے ہم دونوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ مجھے بری شہرت ملی لیکن شہرت تو ملی۔ اگر میری باتوں میں حقیقت ہوتی تو میں ثبوت پیش کرتی، لیکن میں نے کبھی کوئی ثبوت نہیں دیا، اور میری باتیں بھی بار بار بدلتی رہیں، جس سے خود اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصل حقیقت کیا تھی۔"
پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ سے منسوب تنازع نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے، لیکن اس بار وجہ فاطمہ خان کا ایسا اعتراف ہے جس نے کئی لوگوں کو حیران کر دیا۔
فاطمہ خان، جو ماضی میں رجب بٹ کے ساتھ مبینہ تعلقات اور مہنگے تحائف سے متعلق دعوؤں کے باعث خبروں میں رہی تھیں، اب اپنے ہی بیانات سے پیچھے ہٹتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا اور رجب بٹ کا تنازع دراصل ایک منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس سے دونوں فریقوں نے فائدہ اٹھایا۔
یاد رہے کہ فاطمہ خان نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ رجب بٹ نے انہیں قیمتی گھڑیاں تحفے میں دیں اور بیرون ملک سفر کروائے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی تھی۔ ان الزامات نے رجب بٹ کی نجی زندگی سے متعلق پہلے سے موجود تنازعات کو مزید ہوا دی تھی۔
تاہم اب فاطمہ خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور ان کے بیانات میں بھی بار بار تبدیلی آتی رہی، جس سے لوگوں کو خود اندازہ لگا لینا چاہیے تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ کئی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ سب شہرت حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی تو عوامی اعتماد کے ساتھ ایسا کھیل کیوں کھیلا گیا۔
فاطمہ خان کے تازہ بیان نے نہ صرف ان کے سابقہ دعوؤں کو متنازع بنا دیا ہے بلکہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی دنیا میں شہرت حاصل کرنے کے طریقوں پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔