مومنہ اقبال کا نام تو انتہائی اسلامی ہے لیکن ان کے اعمال شیطانی ہیں۔ سب سے پہلے یہ بتائیں کہ انہوں نے ثاقب چدھڑ سے بات ہی کیوں کی؟ ایسے معاملات میں ذمہ داری صرف ایک فریق پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال ان دنوں اپنی ذاتی زندگی اور قانونی تنازع کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ اداکارہ نے مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کے خلاف مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے معاملہ این سی سی آئی اے تک پہنچا دیا ہے۔ شدید دباؤ اور تنازعات کے ماحول کے باوجود مومنہ اقبال نے حال ہی میں شادی بھی کی اور پورے معاملے میں مضبوطی کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرتی نظر آئیں۔
دوسری جانب معروف مذہبی اسکالر اور ٹی وی شخصیت ناصر مدنی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے مومنہ اقبال کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ ناصر مدنی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ مومنہ اقبال کا نام تو اسلامی ہے لیکن ان کے اعمال اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اداکارہ نے ابتدا میں ثاقب چدھڑ سے رابطہ یا گفتگو کیوں کی۔
ناصر مدنی کے ان ریمارکس پر مومنہ اقبال خاموش نہ رہیں اور انہوں نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے مذہبی اسکالر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک اسلامی اسکالر کی جانب سے کسی خاتون کی اس طرح تضحیک کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی خاتون کو بغیر حقائق جانے نشانہ بنانا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے معاشرے میں غلط پیغام بھی جاتا ہے۔
مومنہ اقبال نے مزید کہا کہ ان کی قانونی ٹیم ناصر مدنی کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اداکارہ کے مطابق ان کے بارے میں دیے گئے بعض ریمارکس ہتک آمیز اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ناصر مدنی کے بیانات پر تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ مومنہ اقبال کو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے، جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ کسی مذہبی اسکالر کو اداکاروں کی ذاتی زندگی پر اس انداز میں تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ بعض صارفین نے ناصر مدنی کے الفاظ کو غیر مناسب اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اداکارہ کی حمایت بھی کی۔